Surah Mulk with Urdu Translation

سورة الملك – مکمل عربی متن اور اردو ترجمہ

تلاوت: شیخ مشاری بن راشد العفاسی

سورة الملك

Surah Al-Mulk (The Sovereignty) – Chapter 67

بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَٰنِ الرَّحِيمِ
تَبَارَكَ الَّذِي بِيَدِهِ الْمُلْكُ وَهُوَ عَلَىٰ كُلِّ شَيْءٍ قَدِيرٌ 1
بہت برکت والا ہے وہ جس کے ہاتھ میں بادشاہی ہے، اور وہ ہر چیز پر قادر ہے۔
الَّذِي خَلَقَ الْمَوْتَ وَالْحَيَاةَ لِيَبْلُوَكُمْ أَيُّكُمْ أَحْسَنُ عَمَلًا ۚ وَهُوَ الْعَزِیزُ الْغَفُورُ 2
جس نے موت اور زندگی کو پیدا کیا تاکہ تمہیں آزمائے کہ تم میں سے کس کے عمل سب سے اچھے ہیں، اور وہ زبردست (اور) بڑا بخشنے والا ہے۔
الَّذِي خَلَقَ سَبْعَ سَمَاوَاتٍ طِبَاقًا ۖ مَّا تَرَىٰ فِی خَلْقِ الرَّحْمَٰنِ مِن تَفَاوُتٍ ۖ فَارْجِعِ الْبَصَرَ هَلْ تَرَىٰ مِن فُطُورٍ 3
جس نے سات آسمان اوپر تلے بنائے۔ تو رحمان کی آفرینش میں کوئی کسر نہ دیکھے گا، سو پھر نگاہ ڈال کیا تجھے کوئی شگاف نظر آتا ہے؟
ثُمَّ ارْجِعِ الْبَصَرَ كَرَّتَيْنِ يَنقَلِبْ إِلَيْكَ الْبَصَرُ خَاسِئًا وَهُوَ حَسِيرٌ 4
پھر دوبارہ بھی نگاہ ڈال، تیری نگاہ تیری طرف ناامید ہو کر تھکی ہوئی لوٹ آئے گی۔
وَلَقَدْ زَيَّنَّا السَّمَاءَ الدُّنْيَا بِمَصَابِيحَ وَجَعَلْنَاهَا رُجُومًا لِّلشَّيَاطِينِ ۖ وَأَعْتَدْنَا لَهُمْ عَذَابَ السَّعِيرِ 5
اور ہم نے نیچے کے آسمان کو چراغوں (ستاروں) سے زینت دی اور انہیں شیطانوں کے مارنے کا ذریعہ بنایا، اور ہم نے ان کے لیے بھڑکتی ہوئی آگ کا عذاب تیار کر رکھا ہے۔
وَلِلَّذِينَ كَفَرُوا بِرَبِّهِمْ عَذَابُ جَهَنَّمَ ۖ وَبِئْسَ الْمَصِيرُ 6
اور اپنے رب کا انکار کرنے والوں کے لیے جہنم کا عذاب ہے، اور وہ بہت ہی برا ٹھکانا ہے۔
إِذَا أُلْقُوا فِيهَا سَمِعُوا لَهَا شَهِيقًا وَهِيَ تَفُورُ 7
جب وہ اس میں ڈالے جائیں گے تو اس کی بڑے زور کی آواز سنیں گے اور وہ جوش مار رہی ہوگی۔
تَكَادُ تَمَيَّزُ مِنَ الْغَيْظِ ۖ كُلَّمَا أُلْقِيَ فِيهَا فَوْجٌ سَأَلَهُمْ خَزَنَتُهَا أَلَمْ يَأْتِكُمْ نَذِيرٌ 8
قریب ہوگا کہ وہ غصے کے مارے پھٹ جائے، جب کبھی اس میں کوئی گروہ ڈالا جائے گا تو اس سے جہنم کے داروغے پوچھیں گے کہ کیا تمہارے پاس کوئی ڈرانے والا نہیں آیا تھا؟
قَالُوا بَلَىٰ قَدْ جَاءَنَا نَذِيرٌ فَكَذَّبْنَا وَقُلْنَا مَا نَزَّلَ اللَّهُ مِن شَيْءٍ إِنْ أَنتُمْ إِلَّا فِي ضَلَالٍ كَبِيرٍ 9
وہ کہیں گے کیوں نہیں! بیشک ہمارے پاس ڈرانے والا آیا تھا لیکن ہم نے اسے جھٹلا دیا اور ہم نے کہا کہ اللہ نے کچھ بھی نازل نہیں فرمایا، تم تو بس بڑی گمراہی میں پڑے ہو۔
وَقَالُوا لَوْ كُنَّا نَسْمَعُ أَوْ نَعْقِلُ مَا كُنَّا فِي أَصْحَابِ السَّعِيرِ 10
اور کہیں گے اگر ہم سنتے ہوتے یا عقل رکھتے ہوتے تو دوزخیوں میں (شریک) نہ ہوتے۔
فَاعْتَرَفُوا بِذَنبِهِمْ فَسُحْقًا لِّأَصْحَابِ السَّعِيرِ 11
پس وہ اپنے گناہوں کا اعتراف کر لیں گے، سو دور ہو جائیں دوزخی (اللہ کی رحمت سے)۔
إِنَّ الَّذِينَ يَخْشَوْنَ رَبَّهُم بِالْغَيْبِ لَهُم مَّغْفِرَةٌ وَأَجْرٌ كَبِيرٌ 12
بیشک جو لوگ اپنے پروردگار سے غائبانہ طور پر ڈرتے رہتے ہیں ان کے لیے بخشش ہے اور بڑا ثواب ہے۔
وَأَسِرُّوا قَوْلَكُمْ أَوِ اجْهَرُوا بِهِ ۖ إِنَّهُ عَلِيمٌ بِذَاتِ الصُّدُورِ 13
اور تم اپنی باتوں کو چھپاؤ یا ظاہر کرو، وہ تو سینوں کی پوشیدگی کو بھی بخوبی جانتا ہے۔
أَلَا يَعْلَمُ مَنْ خَلَقَ وَهُوَ اللَّطِيفُ الْخَبِيرُ 14
کیا وہی نہ جانے گا جس نے پیدا کیا؟ حالانکہ وہ باریک بین اور باخبر بھی ہے۔
هُوَ الَّذِي جَعَلَ لَكُمُ الْأَرْضَ ذَلُولًا فَامْشُوا فِي مَنَاكِبِهَا وَكُلُوا مِن رِّزْقِهِ ۖ وَإِلَيْهِ النُّشُورُ 15
وہی تو ہے جس نے تمہارے لیے زمین کو پست و مطیع کر دیا تا کہ تم اس کی راہوں میں چلتے پھرتے رہو اور اللہ کی روزیاں کھاؤ، اور اسی کی طرف تم کو جی کر اٹھ کھڑا ہونا ہے۔
أَأَمِنتُم مَّن فِي السَّمَاء أَن يَخْسِفَ بِكُمُ الْأَرْضَ فَإِذَا هِيَ تَمُورُ 16
کیا تم اس بات سے بے خوف ہو گئے ہو کہ آسمانوں والا تمہیں زمین میں دھنسا دے اور اچانک زمین لرزنے لگے؟
أَمْ أَمِنتُم مَّن فِي السَّمَاءِ أَن يُرْسِلَ عَلَيْكُمْ حَاصِبًا ۖ فَسَتَعْلَمُونَ كَيْفَ نَذِيرِ 17
یا کیا تم اس بات سے نڈر ہو گئے ہو کہ آسمانوں والا تم پر پتھر برسا دے؟ پھر تو تمہیں معلوم ہو ہی جائے گا کہ میرا ڈرانا کیسا تھا۔
وَلَقَدْ كَذَّبَ الَّذِينَ مِن قَبْلِهِمْ فَكَيْفَ كَانَ نَكِيرِ 18
اور ان سے پہلے لوگوں نے بھی جھٹلایا تھا، تو دیکھو ان پر میرا عذاب کیسا کچھ ہوا؟
أَوَلَمْ يَرَوْا إِلَى الطَّيْرِ فَوْقَهُمْ صَافَّاتٍ وَيَقْبِضْنَ ۚ مَا يُمْسِكُهُنَّ إِلَّا الرَّحْمَٰنُ ۚ إِنَّهُ بِكُلِّ شَيْءٍ بَصِيرٌ 19
کیا یہ اپنے اوپر پر کھولے ہوئے اور (کبھی کبھی) سمیٹے ہوئے اڑنے والے پرندوں کو نہیں دیکھتے؟ انہیں رحمان ہی فضا میں تھامے ہوئے ہے۔ بیشک ہر چیز اس کی نگاہ میں ہے۔
أَمَّنْ هَٰذَا الَّذِي هُوَ جُندٌ لَّكُمْ يَنصُرُكُم مِّن دُونِ الرَّحْمَٰنِ ۚ إِنِ الْكَافِرُونَ إِلَّا فِي غُرُورٍ 20
بھلا اللہ کے سوا تمہارا وہ کونسا لشکر ہے جو تمہاری مدد کر سکے؟ کافر تو سراسر دھوکے ہی میں ہیں۔
أَمَّنْ هَٰذَا الَّذِي يَرْزُقُكُمْ إنْ أَمْسَکَ رِزْقَهُ ۚ بَل لَّجُّوا فِي عُتُوٍّ وَنُفُورٍ 21
یا اگر اللہ اپنی روزی روک لے تو بتاؤ کون ہے جو پھر تمہیں روزی دے گا؟ بلکہ کافر تو سرکشی اور بدکنے پر اڑ گئے ہیں۔
أَفَمَن يَشْمِي مُكِبًّا عَلَىٰ وَجْهِهِ أَهْدَىٰ أَمَّن يَمْشِي سَوِيًّا عَلَىٰ صِرَاطٍ مُّسْتَقِيمٍ 22
بھلا وہ شخص جو اپنے منہ کے بل اوندھا ہو کر چلے زیادہ ہدایت والا ہے یا وہ جو سیدھا (پیروں کے بل) راہ راست پر چلا ہو؟
قُلْ هُوَ الَّذِي أَنشَأَكُمْ وَجَعَلَ لَكُمُ السَّمْعَ وَالْأَبْصَارَ وَالْأَفْئِدَةَ ۖ قَلِيلًا مَّا تَشْكُرُونَ 23
کہہ دیجئے کہ وہی اللہ ہے جس نے تمہیں پیدا کیا اور تمہارے کان، آنکھیں اور دل بنائے، تم بہت ہی کم شکر گزاری کرتے ہو۔
قُلْ هُوَ الَّذِي ذَرَأَكُمْ فِي الْأَرْضِ وَإِلَيْهِ تُحْشَرُونَ 24
کہہ دیجئے کہ وہی ہے جس نے تمہیں زمین میں پھیلایا اور اسی کی طرف تم سب اکٹھے کیے جاؤ گے۔
وَيَقُولُونَ مَتَىٰ هَٰذَا الْوَعْدُ إِن كُنتُمْ صَادِقِينَ 25
اور کافر پوچھتے ہیں کہ وہ وعدہ کب ظاہر ہوگا اگر تم سچے ہو (تو بتاؤ؟)۔
قُلْ إِنَّمَا الْعِلْمُ عِندَ اللَّهِ وَإِنَّمَا أَنَا نَذِيرٌ مُّبِينٌ 26
آپ کہہ دیجئے کہ اس کا علم تو اللہ ہی کو ہے، میں تو صرف کھلے طور پر آگاہ کر دینے والا ہوں۔
فَلَمَّا رَأَوْهُ زُلْفَةً سِيئَتْ وُجُوهُ الَّذِينَ كَفَرُوا وَقِيلَ هَٰذَا الَّذِي كُنتُم بِهِ تَدَّعُونَ 27
اور جب یہ لوگ اس وعدے کو قریب تر پا لیں گے اس وقت ان کافروں کے چہرے بگڑ جائیں گے اور کہہ دیا جائے گا کہ یہی ہے جسے تم طلب کیا کرتے تھے۔
قُلْ أَرَأَيْتُمْ إِنْ أَهْلَكَنِيَ اللَّهُ وَمَن مَّعِيَ أَوْ رَحِمَنَا فَمَن يُجِيرُ الْكَافِرِينَ مِنْ عَذَابٍ أَلِيمٍ 28
آپ کہہ دیجئے کہ بھلا یہ تو بتاؤ کہ اگر مجھے اور میرے ساتھیوں کو اللہ تعالیٰ ہلاک کر دے یا ہم پر رحم کرے، دونوں صورتوں میں کافروں کو دردناک عذاب سے کون بچائے گا؟
قُلْ هُوَ الرَّحْمَٰنُ آمَنَّا بِهِ وَعَلَيْهِ تَوَكَّلْنَا ۖ فَسَتَعْلَمُونَ مَنْ هُوَ فِي ضَلَالٍ مُّبِينٍ 29
آپ کہہ دیجئے کہ وہی رحمان ہے جس پر ہم ایمان لا چکے اور اسی پر ہم نے بھروسہ کیا، سو اب تمہیں عنقریب معلوم ہو جائے گا کہ صریح گمراہی میں کون ہے۔
قُلْ أَرَأَيْتُمْ إِنْ أَصْبَحَ مَاؤُكُمْ غَوْرًا فَمَن يَأْتِيكُم بِمَاءٍ مَّعِينٍ 30
کہہ دیجئے کہ بھلا یہ تو بتاؤ کہ اگر تمہارا پانی زمین کی گہرائیوں میں اتر جائے تو کون ہے جو تمہاری آنکھوں کے سامنے بہتا ہوا صاف پانی لے آئے گا؟

Surah Al-Mulk Completed Panel

Why Recite Surah Mulk?

1. Protection in the Grave

The most widely known virtue of Surah Al-Mulk is its role as a shield after death. According to authentic Hadiths (prophetic traditions), it acts as a defender for those who read it regularly.

  • The Intercessor: The Prophet Muhammad (peace be upon him) stated that there is a chapter in the Quran of thirty verses that interceded for a man until he was forgiven, and it is Surah Al-Mulk.
  • The Protector: It is often referred to as Al-Mani’ah (The Preventer) because it protects the believer from the punishment of the grave.

2. A Source of Daily Forgiveness

Because the surah intercedes on behalf of its reciter until their sins are forgiven, establishing a nightly routine with these 30 verses is viewed as a practical way to seek daily spiritual cleansing and peace before sleeping.

3. Shifting Your Perspective on Life

Beyond the spiritual rewards, the actual text of Surah Al-Mulk is a powerful reminder of our place in the universe. Listening to it attentively focuses your mind on:

  • The Grandeur of Creation: It challenges the listener to look at the skies and the world around them to find any flaws or gaps in God’s creation, instantly humbling human pride.
  • The Purpose of Life: The very second verse establishes that life and death were created as a test to see “which of you is best in deed.” It is a grounding reality check at the end of a busy day.

4. Recalling Ultimate Control

The surah repeatedly emphasizes that ultimate ownership, control, and sovereignty over all things belong to the Creator alone. For anyone carrying stress, anxiety, or the heavy burdens of daily responsibilities, listening to these verses serves as a powerful reminder to let go of the illusion of absolute control and place one’s trust in a higher power.

A Beautiful Nightly Sunnah: It was the practice of the Prophet Muhammad (peace be upon him) never to go to sleep until he had recited Surah Al-Sajdah and Surah Al-Mulk.

Whether you are fully fluent in reading it or prefer to put on a beautiful audio recitation to listen to quietly as you wind down for the night, the spiritual and mental benefits remain immense. It takes less than ten minutes to recite, making it one of the most accessible daily habits to build.